جمعرات 4 جون 2026 - 17:34
پروفیسر عالمہ معصومہ شیرازی کی حوزہ نیوز سے گفتگو: غدیر میعاد گاہِ الٰہی، ذمہ داری اور کلمۂ طیّبۂ ولایت کا ایک تسلسل ہے

حوزہ/پاکستان کی عالمہ، خطیبہ، ادیبہ، شاعرہ اور سوشل ایکٹوسٹ پروفیسر سیدہ معصومہ شیرازی نے غدیر کی مناسبت سے غدیر کا مسلمانوں کے درمیان مقام، پاکستان میں غدیر کے فروغ میں اہم دینی و ثقافتی صلاحیتوں اور پاکستان میں علماء کا مختلف مکاتب میں علمی مکالمے کے فروغ میں کردار سمیت کئی اہم پہلوؤں پر، حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یومِ غدیر میعاد گاہ الٰہی، مسئولیت، ذمہ داری اور کلمہ طیّبۂ ولایت کا ایک تسلسل ہے؛ جس کی ابتداء دعوتِ ذوالعشیرہ سے ہوئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی عالمہ، خطیبہ، ادیبہ، شاعرہ اور سوشل ایکٹوسٹ پروفیسر سیدہ معصومہ شیرازی نے غدیر کی مناسبت سے غدیر کا مسلمانوں کے درمیان مقام، پاکستان میں غدیر کے فروغ میں اہم دینی و ثقافتی صلاحیتوں اور پاکستان میں علماء کا مختلف مکاتب میں علمی مکالمے کے فروغ میں کردار سمیت کئی اہم پہلوؤں پر، حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یومِ غدیر میعاد گاہ الٰہی، مسئولیت، ذمہ داری اور کلمہ طیّبۂ ولایت کا ایک تسلسل ہے؛ جس کی ابتداء دعوتِ ذوالعشیرہ سے ہوئی۔

گفتگو سوال اور جواب کی صورت میں پیش خدمت ہے:

حوزہ: عید غدیر کا مسلمانوں کے درمیان مقام اور اہمیت کیا ہے؟

سیدہ معصومہ شیرازی: یومِ غدیر میعاد گاہ الٰہی، مسئولیت اور ذمہ داری ہے۔ غدیر کلمہ طیّبۂ ولایت کا ایک تسلسل ہے؛ جس کی ابتداء دعوتِ ذوالعشیرہ سے ہوئی جہاں وصائیت و ولایت کا باقاعدہ اعلان ہوا اور اس کے بعد یہ تسلسلِ اعلان ولایت ہجرت رسول، خیبر و احد و خندق اور دیگر میدانوں میں جاری رہا جہاں وصائیت کے باعظمت عہدے کو اس کی شرائط اور خصوصیات کے ساتھ مسلسل بیان کیا جاتا رہا۔ غدیر اعلان ولایت کا تسلسل اور اعلان غدیر حاکمیت الٰہی کا پورا نظام اور آئین ہے۔ غدیر فقط عقیدہ نہیں، بلکہ عملی ائین ہے جس کے بغیر رسالت کا کار ابلاغ مکمل نہیں ہو سکتا۔ غدیر صوفیانہ عشق کا حجرہ عبادت نہیں، بلکہ آئین الٰہی کا عملی میدان ہے۔ غدیر فقط دلداری نہیں، بلکہ مسئولیت اور ذمہ داری ہے۔ غدیر عاشقوں کی جنت اعلیٰ ہے۔ غدیر ادبیات عالم کا روشن باب ہے جہاں غدیریات کی شعری اصطلاح ایک عظیم ابجدی خزانہ ہے۔ غدیر انسانوں پر ولایت کا حاکمانہ اختیار ہے جہاں نفس انسانی خود کو خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔ غدیر ولایتِ الٰہی کا عہدہ، منصب اور حاکمیت ہے۔

پروفیسر عالمہ معصومہ شیرازی کی حوزہ نیوز سے گفتگو: غدیر میعاد گاہِ الٰہی، ذمہ داری اور کلمۂ طیّبۂ ولایت کا ایک تسلسل ہے

مکتبِ تشیع میں یومِ غدیر خدا کی وعدہ گاہ ہے جہاں ولایت کے متوازی طاغوتی طاقتوں سے اظہار برائت حاکمیت اعلیٰ کے نمائندے کی اطاعت و پیروی اور اس کی حاکمیت کو اپنے نفسوں پر جاری کرنا ہے اس لیے مکتبِ تشیع کسی ظاہری اور دنیوی حکمران کے بجائے مسند ولایت کے تخت نشین ولی خدا کے نائبین کو اپنا حاکم اور رہبر سمجھتا ہے اور ولایتِ فقیہ کی طاقت اور الٰہی آئین کی پیروی ہے۔ ایک نمائندۂ ولایت کا فتویٰ تمام عالم تشیع کو ایک صف میں کھڑا کر دیتا ہے گویا پورا مکتبِ تشیع اعلان غدیر کے منصبِ ولایت کا پیرو ہے اور نائبِ ولایتِ الٰہی کو اپنے نفسوں پر حاکمیت کا حق دیتا ہے اور یہی نظریہِ ولایتِ فقیہ کی صورت میں اس وقت عالم تشیع کا افتخار ہے۔ گویا جس اصرار اور اہتمام سے حکم ہوا اسی اہتمام سے یہ پیغام پہنچایا گیا، انتظار کی کیفیت پیدا کی گئی، لاکھوں راوی بنائے گئے۔ رسول کی احادیث میں یہ وہ حدیث ہے کہ جس کے راوی لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ غدیر میں بیعت کا مفہوم سمجھایا گیا جہاں محمد مصطفٰی نے فرمایا: کیا میں تمہارے نفوس پر تم سے زیادہ تصرف کا حق نہیں رکھتا ہوں؟ جوابا اقرار کیا گیا اور پھر پیغمبر نے فرمایا: اللہ میرا مولا ہے؛ میں مؤمنین کا مولا ہوں اور جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔ گویا سمجھا دیا کہ امامت کے عقیدے کے بغیر رسالت کا عقیدہ مکمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ رسالت پیغام پہنچاتی ہے اور امامت اس پیغام کو عملی میدانوں میں برپا کر کے آئین الٰہی کو بحال کرتی ہے۔ غدیر آغاز ولایت نہیں، بلکہ تسلسل اعلان ولایت ہے جس کا اغاز بیعت کے اعلان ولایت سے ہوا اور غدیر میں کمال تک پہنچا دیا گیا۔ اس بنا پر غدیر کا مسلمانوں میں مقام اور اہمیت بے مثال ہے۔

حوزہ: پاکستان میں ثقافتی حوالے سے غدیر کے فروغ کے لیے کون سی اہم دینی اور ثقافتی صلاحیتیں موجود ہیں؟

سیدہ معصومہ شیرازی: پاکستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں تمام مسالک موجود ہیں؛ آئمہ اربعہ کے پیروکار ہوں یا مکتبِ تشیع کے شیعانِ اہل بیت، تمام مسالک اپنے اپنے افکار و عقائد کے ساتھ ایک ہی سرزمین پر آباد ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک زمینی خطے میں مروج تہوار بھی اس معاشرے کی اجتماعی فکر کے امین ہوتے ہیں اس لیے ان تہواروں پر خاص اہتمام اور رسمی اجتماعات پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اگرچہ طاغوتی عناصر مذہبی منافرت کے مصنوعی حیلوں سے معاشرے میں تشدد اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے بھرپور کوششیں کرتے ہیں اور اپنے سیاسی و مادی مفادات کے لیے مسلمان امت کو باہم دست و گریباں کرنے کی مذموم کوششیں کرتے رہتے ہیں مگر من حیث القوم پاکستان کے تمام مسلمان غدیر کے اس بابرکت اور عاشقانہ دن کو بڑے محبت اور عقیدت سے مناتے ہیں یہاں تک کہ اس عظیم دن کی مناسبت سے غدیری کلام قوالوں کی زبانوں پر سارا سال رواں رہتے ہیں۔ تمام مدح خوان بلا تخصیص مسلک اپنی اپنی عقیدتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ اکثر شاعر غدیر کو بطورِ استعارہ بھی اپنے اشعار میں استعمال کرتے ہیں۔ سنی مسلمان بھی علی کے عشق میں اپنا اپنا ہدیہ عقیدت پیش کرتے رہتے ہیں۔ برصغیر میں تقسیمِ ہند سے قبل بے شمار ریاستوں پر شیعہ حکمرانوں کی موجودگی نے ہندی ثقافت میں عزاداری اور غدیر جیسے ایام کو اجتماعی تہواروں میں تبدیل کر دیا۔ راجہ انور جو پاکستان کے عظیم دانشور ادیب اور صحافی تھے ان کی تحقیق کے مطابق برصغیر میں بیشتر ریاستوں کے سردار اور حاکم شیعہ فکر کے امین تھے۔ اس لیے برصغیر میں تاریخ اسلام کے عظیم ترین دن بڑی محبت اور عقیدت سے منائے جاتے رہے اور آج بھی اسی طرح منائے جاتے ہیں جس طرح اہل تشیع کے ہاں یومِ غدیر پر امام بارگاہوں میں پورے جذبے اور عشق کے ساتھ اس دن کو منایا جاتا ہے وہاں اہل سنت کے ہاں بھی مختلف گدی نشینوں کے ہاں عاشقانہ اجتماعات اور مزارات پر محافل سماع اور محافل ذکر کا اہتمام ہوتا ہے۔ ثقافتی حوالے سے غور کریں تو پاکستان کے اکثر قوال اور صوفیانہ کلام پیش کرنے والوں میں اکثریت نے غدیری حوالے سے مولا کی ولایت پر مسلسل کلام پیش کیے ہیں جن میں نصرت فتح علی خان کی مثال موجود ہے جن کی مشہور زمانہ قوالی، من کنت مولا، تمام دنیا میں معروف ہے۔ مشہور ہے کہ ضیاء الحق کے زمانے میں نصرت فتح علی خان کی ایک قوالی جس میں فضائل مولا کا شاندار بیان تھا اس پر پابندی لگائی گئی مگر ضیاء الحق کے بعد اس اہل سنت قوال نے عاشقی کی رسم دہراتے ہوئے من کنت مولا جیسے کلام کو پیش کیا جسے پوری دنیا میں پذیرائی ملی۔گویا جشنِ غدیر پاکستان کے ثقافتی ورثے کا ایک عظیم حصہ ہے۔موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت اہل سنت کے بیشتر مستند اور مشہور علماء اپنی گفتگو میں غدیر کو باقاعدہ ایک موضوع کی طرح پیش کرتے ہیں اور اس پر گفتگو کرتے ہیں بس فرق ہے تو بعض فکری باریکیوں کا جہاں شیعوں کے ہاں ولایتِ الٰہی کے نمائندے کے طور پر اور اہل سنت کے ہاں عشق رسول کے بعد عشق علی کے حوالے سے غدیر کا جشن منایا جاتا ہے۔

پروفیسر عالمہ معصومہ شیرازی کی حوزہ نیوز سے گفتگو: غدیر میعاد گاہِ الٰہی، ذمہ داری اور کلمۂ طیّبۂ ولایت کا ایک تسلسل ہے

حوزہ: پاکستان کے علماء مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے درمیان علمی مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

سیدہ معصومہ شیرازی: مکالمہ ایک صحت مند علمی فضا میں منعقد ہو سکتا ہے اس لیے معاشرے میں خوش فکر تعصب سے عاری اور اہل علم علماء کی سرپرستی اور ان کو آگے لانے کی ضرورت ہے۔ اکثریت ان علماء کی ہے جو پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں تمام مسالک کے لوگ آباد ہیں ایک اختلافی فضا پیدا کر کے اپنی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور انہی تفاوتوں اور بحثوں کے ذریعے خود کو منواتے ہیں؛ حالانکہ اتحاد و یکجہتی اور یگانگت کے سفیر علماء خود خواہ نہیں ہوتے اس لیے پردہ نشین رہتے ہیں۔

حوزہ: آپ کی نظر میں انتہاء پسندی، تفرقے اور تشدد کے مقابلے میں غدیر کا پیغام کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے؟

سیدہ معصومہ شیرازی: شہید رہبر کے عالی افکار میں غدیر وحدت آفرین عقیدہ، توحید، رسالت اور امامت کا امین ہے۔ غدیر شیعہ و سنی مکاتبِ فکر کے ہاں متواتر اور مستند ترین روایت ہے جہاں تمام امت یک زبان ہے اور یہ وحدت عشق، محبت، مودت اور پیغام امن و آشتی ہے۔ تمام خطبہ انسانی حقوق کی بحالی اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کا عظیم بیانیہ ہے جہاں عورتوں کو مردوں کے برابر بیعت یعنی ووٹ کا حق دیا گیا۔ اگر غدیر کو عام کیا جائے تو وحدت امت کا عظیم منشور بن کر سامنے آئے گا۔ ہم نے غدیری مبلغ گم کیے تو تکفیریت کے قدم جمنے لگے۔ امام شافعی نے بھی غدیر کو تمام مسلمانوں کے لیے روز عید قرار دیا خاص طور پر رہبرِ انقلابِ اسلامی نے غدیر کو عام کرنے پر زور دیا، تاکہ معاشرہ عشق رسالت و امامت میں ہم آواز ہو کر رو بہ قبلہِ عشق ہو جائے؛ کیونکہ اعلان غدیر میں رسالت اور امامت کا عشق یکساں اور یک جہتی ہے۔

حوزہ: امیر المؤمنین کی تعلیمات میں سماجی انصاف کے قیام اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کیا اصول ہیں؟

پروفیسر سیدہ معصومہ شیرازی: بے شک عملی میدانوں میں انسانی حقوق اور سماجی عدل کے حوالے سے ایک ہی شخصیت بے نظیر اور آفاقی ہے اور وہ مولا علی کی ذات ہے۔ جارج جردوق نے عیسائی پادری کے استفسار پر یہی کہا کہ میں عدل اور مساوات کا عاشق ہوں اس لیے تاریخ کے سب سے بڑے عادل اور انسانی حقوق کے بہترین مبلغ علی کو منتخب کیا اور پھر اس غیر مسلم محقق نے عالمی منظر نامے میں مقبول ترین کتاب ”ندائےعدالت انسانی“ لکھی خود علی علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ علی مچھر کے پر کے برابر بھی ظلم کرنے پر تیار نہیں اور ایک لمحے کے لیے بھی باطل سے سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ مولا علی کے دور حکومت میں بیت المال کی عادلانہ تقسیم معاشرے میں سماجی اقدار کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں کسی آقا کو کسی غلام پر برتری حاصل نہیں تھی۔ جن کے حق مارے جا چکے تھے ان کے حق لوٹائے گئے۔ اقلیتوں کو ان کے انسانی حقوق فراہم کر کے ان کے ساتھ عظیم برتاؤ کیا گیا۔ جنگوں کے اصول معین کیے گئے۔ ضعیفوں اور فقیروں کی داد رسی کی گئی۔ اسی طرح مصر کے مقرر کردہ گورنر مالک اشتر کو لکھے خط میں مولا نے ریاستی بنیادوں پر معاشرے میں عادلانہ امور اور انسانی حقوق کا پورا چارٹر عطا کیا۔ انسانی حقوق پر مبنی ایک ایسے نظام حکومت کو پیش کیا جس پر خود بھی عامل رہے اور قیامت تک آنے والوں کے لیے بھی لائحہ عمل مرتب فرما دیا۔ اس خط کو مختلف اقوام اور اقوامِ متحدہ سمیت اکثر سربراہان مملکت نے اپنا سیاسی ایجنڈا بھی قرار دیا۔ اگر سیرتِ علی کو واہ واہ کے نعروں سے نکال کر اس عادل مصلح کے حوالے سے بیان کیا جائے جو اقلیتوں کا خیر خواہ ضعیفوں، غریبوں اور مختلف طبقات انسانی کے لیے ایک نجات دہندہ کی حیثیت رکھتا ہے تو امت ان عظیم خطوط پر ایک عادلانہ معاشرہ ترتیب دے سکتی ہے۔

جامعات اور علمی مراکز میں فکر غدیر کو بہتر انداز میں متعارف کروانے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟

سیدہ معصومہ شیرازی: جامعات اور یونیورسٹیز کے طلبہ اس وقت اے آئی کی مصنوعی ذہانت کی دنیا میں جی رہے ہیں؛ جہاں ایک مصنوعی آواز انہیں ہر علمی مشکل کا حل دینے کے لیے تیار ہے، جبکہ دین مبین کے حوالے سے ایک امام مبین کی صدائے عالمانہ تاریخ کی راہداریوں میں گونج رہی ہے:سلونی سلونی!ضرورت ہے کہ اس حقیقی سلونی کے نعرے کی طرف متوجہ کر کے نوجوان نسل کو اپنی تاریخ کے اس عظیم الشان علمی معجزے سے متعارف کروایا جائے جہاں انہیں اپنے افتخارات سے ملوایا جائے۔ آج اے آئی کہتی ہے کہ مجھ سے پوچھو جو چاہو اور دوسری طرف ایک ایسا حقیقی کردار ہے جو منبر پر بیٹھ کر پورے عالمین کے تمام علوم کے حوالے سے تشنگانِ علم کو دعوت فکر دیتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ جو کچھ پوچھنا چاہتے ہو مجھ سے پوچھو! اسی طرح طاغوتی اولیاء کے ظلم و ستم اور بے رحمانہ نظام کے تحت جینے والے اور اے آئی کی مصنوعی زندگی کے تمام مسائل اور الجھنوں میں گھرے جوانوں کو اپنے قابلِ افتخار نظام کی طرف متوجہ کرنا ضروری ہے۔

علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے؟

وہ کیا گردوں تھا جس کا تو ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

ولایت کے حقیقی منصب سے تعارف اور ان آفاقی اور لازوال فطری اصولوں پر مرتب نظام کی طرف متوجہ کرنا بہت ضروری ہے جس سے آج کا جوان اپنے الٰہی آئین اور قوانین کی طرف متوجہ ہوگا۔

عالم کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت

ہو جس کی خودی زلزلہِ عالم افکار

اپنی نئی نسل کو اپنے عہد رفتہ کی آواز بنانے کے لیے اور دین حکمت کے عظیم الشان نظام کو برپا کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے افکار و نظریات اہل بیت کو جدید خطوط میں بیان کرنا ضروری ہے ان نظریات کی تشہیر و تعبیر کے لیے صرف علماء نہیں، بلکہ ایسے دانشور حضرات بھی تلاش کیے جائیں جو نوجوان نسل کو بڑی نفاست اور باریکی کے ساتھ دوبارہ اپنی عظمت رفتہ کی طرف متوجہ کر سکیں۔آج المیہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر دانشور عالمِ فرنگ کی نذر ہو چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج یونیورسٹیز اور جامعات میں اس عظیم الشان اور باحکمت علوم کو قرآن، سنت اور اہل بیت کے آثار کے ذریعے پیش کیا جائے، تاکہ نوجوان نسل اپنے افتخارات کے ساتھ سر اٹھا کر جی سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha